Hadith in Urdu

Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ ﷺ
ذکر الہٰی کی فضیلت۔

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ جو شخص اللہ کا ذکر کرے اور جو ذکر نہ کرے ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔ (یعنی ذکر کرنے والا زندہ اور ذکر نہ کرنے والا مردوں کی طرح ہے)

صحیح بخاری

سبحان اللہ کی فضیلت۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جس نے سبحان اللہ وبحمدہ ایک دن میں سو مرتبہ پڑھا اس کے تمام گناہ مٹا دیے جائیں گے اگرچہ (اس کے گناہ) سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔

صحیح بخاری

اچھے برتاؤ کا سب زیادہ مستحق کون ہے؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ میری بھلائی اور حسن معاملہ کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تیری ماں” ۔ اس نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ پھر بھی تیری ماں” ۔ اس نے چوتھی مرتبہ پوچھا کہ اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ پھر تیرا باپ۔

صحیح بخاری

پڑوسی کے ساتھ احسان کرنے کی وصیت۔

سیدنا ابوشریح رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہے، اللہ کی قسم وہ مومن نہیں ہے۔” دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ کون شخص ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جس کا پڑوسی اس سے تکالیف اٹھاتا ہو۔

صحیح بخاری

کم آدمی زیادہ آدمیوں کو سلام کریں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: “ کم عمر والا بڑی عمر والے کو اور چلنے والا شخص بیٹھے ہوئے شخص کو اور کم آدمیوں کی جماعت زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کرے۔”

صحیح بخاری

صلہ رحمی کے بدلے صلہ رحمی (کرنا صلہ رحمی) نہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو صرف بدلہ چکائے (یعنی احسان کے بدلے احسان کر دے) بلکہ صلہ رحمی کرنے والا (رشتہ ناتا جوڑنے والا) وہ ہے جو اپنے ٹوٹے ہوئے رشتہ کو جوڑے۔”

صحیح بخاری

جان پہچان ہو یا نہ سب کو سلام کرنا چاہیے

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا کام بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ (محتاجوں کو) کھانا کھلانا اور جس کو تو جانتا پہنچانتا ہو اور جس کو نہ جانتا پہچانتا ہو، غرض سب (مسلمانوں) کو سلام کرنا۔”

صحیح بخاری

تکلیف یا مشکل کے وقت دعا مانگنا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف کے وقت یہ دعا مانگا کرے تھے: “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ بڑا تحمل والا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ آسمانوں کا رب ہے اور زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔

صحیح بخاری

استغفار کے لیے افضل ترین دعا (کون سی ہے؟

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ سب سے افضل استغفار یہ ہے (ترجمہ) “ اے اللہ! تو میرا مالک ہے تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو نے ہی مجھ کو پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر جہاں تک مجھ سے ہو سکتا ہے قائم ہوں، میں نے جو (جو برے) کام کیے ہیں، ان سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں تیرے احسان اور اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہوں، (پس تو) میری خطائیں معاف فرما دے، بیشک تیرے سوا کوئی گناہوں کا معاف فرمانے والا نہیں ہے۔” اور فرمایا: “ جس نے اس (دعائے) استغفار کو، اس پر یقین کرتے ہوئے دن میں پڑھا اور اس روز وہ شام سے پہلے مر گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کو کامل یقین کے ساتھ پڑھا اور صبح ہونے سے پہلے مر گیا، تو وہ بھی جنتی ہے۔”

صحیح بخاری

نماز تراویح

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات نصف شب کو باہر تشریف لائے اور مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ دوسرے لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی (یہ حدیث کتاب الصلاۃ میں گزر چکی ہے ان دونوں حدیثوں میں کچھ لفظ مختلف ہیں۔ اس لیے یہ احادیث ملاحظہ فرمائیں باب: جب امام اور لوگوں کے درمیان کوئی دیوار یا سترہ ہو۔۔۔ اور باب: نماز تہجد۔۔۔)۔ اس حدیث کے آخر میں کہتی ہیں کہ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک یہی کیفیت رہی۔

صحیح بخاری

نماز جمعہ کی فضیلت۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جو شخص جمعہ کے دن مثل غسل جنابت کے (خوب اچھی طرح) غسل کرے، اس کے بعد (نماز کے لیے) چلے تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا اور جو دوسری گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسری گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلے تو گویا اس نے ایک مرغی صدقہ میں دی اور جو پانچویں گھڑی میں چلے تو اس نے گویا ایک انڈا صدقہ میں دیا پس جس وقت امام (خطبہ دینے) نکل آتا ہے تو فرشتے خطبہ سننے کے لیے اندر آ جاتے ہیں (اور ثواب کا سلسلہ موقوف ہو جاتا ہے)۔”

صحیح بخاری

روزے کی فضیلت و عظمت

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ روزہ (عذاب الٰہی کے لیے) ڈھال ہے پس روزہ دار کو چاہیے کہ فحش بات نہ کہے اور جہالت کی باتیں (مثلا مذاق، جھوٹ، چیخنا چلانا اور شوروغل مچانا وغیرہ) بھی نہ کرے اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اسے چاہیے کہ دو مرتبہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی زیادہ عمدہ ہے (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ) روزہ دار اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہش و شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ (تو) روزہ میرے ہی لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا ملتا ہے (لیکن روزہ کا ثواب اس سے کہیں زیادہ ملے گا)۔

صحیح بخاری

افطار میں جلدی کرنا افضل ہے۔

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ لوگ ہمیشہ نیکی پر رہیں گے جب تک کہ وہ جلد افطار کرنے میں جلدی کیا کریں گے۔”

صحیح بخاری

رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا مسنون ہے اور اعتکاف سب مسجدوں میں ہو سکتا ہے

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں برابر اعتکاف کیا کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اعتکاف کیا۔

صحیح بخاری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین ہونے کا بیان۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میری اور دوسرے پیغمبروں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکمل گھر بنایا اور بہت اچھا بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی تو لوگ اس گھر میں جانے لگے اور تعجب کرنے لگے کہ یہ اینٹ کی جگہ اگر خالی نہ ہوتی تو کیسا اچھا مکمل گھر ہوتا۔”

صحیح بخاری

جمعہ کے دن عمدہ سے عمدہ لباس جو میسر ہو پہنے۔

امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مسجد کے پاس دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو مول لے لیتے اور اس کو جمعہ کے دن اور قاصدوں کے سامنے جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں، پہن لیا کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اسے تو وہی شخص پہنے گا جس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہو۔” اس کے بعد (کہیں سے) اسی قسم کے کئی ریشمی جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک حلہ (ریشمی جوڑا) دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے یہ دیدیا حالانکہ آپ حلہ عطارد کے بارے میں کچھ ارشاد فرما چکے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میں نے تم کو اس لیے نہیں دیا کہ تم خود اس کو پہنو۔” پس عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا پہنا دیا۔

صحیح بخاری

صدقہ فطر کی مقدار کا بیان۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے لیے کھجوروں کا یا “ جو” کا ایک صاع مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد اور مرد اور عورت اور بچے اور بڑے سب پر فرض فرمایا اور لوگوں کو نماز (عید) کے لیے نکلنے سے پہلے اسے ادا کر دینے کا حکم دیا ہے۔

صحیح بخاری

لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرنا۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں کو لیلۃالقدر رمضان کی آخری سات راتوں میں خواب میں دکھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میں دیکھتا ہوں کہ تمہارے خواب آخری سات راتوں پر متفق ہو گئے ہیں پس جو کوئی لیلۃالقدر کا متلاشی ہو تو وہ اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔

صحیح بخاری

صرف) رات میں اعتکاف کرنا

امیرالمؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں یہ نذر کی تھی کہ ایک رات کعبہ میں اعتکاف کروں گا (تو آیا اس نذر کو پورا کروں یا نہیں؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تم اپنی نذر کو پورا کرو۔

صحیح بخاری

Click to Read More

About Author