Hadith -e- Pak Collection 2

بچوں کا روزہ رکھنا۔
ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی بستیوں میں یہ کہلا بھیجا: “ جس نے بغیر روزہ کے صبح کی ہو وہ اپنے باقی دن میں کچھ کھائے نہ کچھ پیے۔ اور جس شخص نے روزہ کی حالت میں صبح کی ہو وہ روزہ رکھے۔” ربیع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد ہم برابر عاشورہ کا روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو بھی رکھواتے اور ان کے لیے روئی کے کھلونے بنا لیا کرتے تھے کہ جب کوئی ان میں سے کھانے کے لیے روتا تو ہم وہی کھلونا اس کو دے دیتے یہاں تک کہ افطار کا وقت آتا۔

صحیح بخاری

رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرنا۔

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبادت کے لیے کمربستہ ہو جاتے اور (ان راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی) خوب شب بیداری فرماتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے۔

صحیح بخاری

نمازعید سے پہلے صدقہ (فطر دے دینا چاہیے)۔

سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عیدالفطر کے دن ایک صاع کھانا (محتاجوں کو) دیا کرتے تھے اور ہمارا کھانا “ جو، خشک انگور، پنیر اور کھجور” تھا۔

صحیح بخاری

زکوٰۃ نہ دینا گناہ کبیرہ ہے۔

سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اللہ جسے مال دے اور وہ اس مال کی زکوٰۃ نہ دے تو اس کا مال قیامت کے دن اس کے لیے گنجے سانپ کے ہم شکل کر دیا جائے گا جس کے منہ کے دونوں کناروں پر زہریلا جھاگ ہو گا۔ وہ سانپ قیامت کے دن اس کے گلے کا طوق بنایا جائے گا پھر اس کے دو جبڑوں کو ڈسے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں۔” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۃ آل عمران کی) یہ آیت نمبر “ 180” کی تلاوت فرمائی: “ جو لوگ ان چیزوں میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہیں، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ روش ان کے لیے بہتر ہے۔ نہیں بلکہ یہ ان کے لیے بہت ہی بری ہے۔ (اور) جس چیز میں انہوں نے بخل کیا، اس کا انہیں قیامت کے دن طوق پہنایا جائے گا۔

صحیح بخاری

بیت المقدس تک جانے کا قصہ۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: “ جب قریش نے مجھے (معراج کے بارے میں) جھٹلایا تو میں حطیم (کعبہ) میں کھڑا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا (حجاب اٹھا دیا) پس میں نے اسے دیکھ کر قریش سے اس کی علامات بیان کرنا شروع کر دیں۔”

صحیح بخاری

جس نے روزے میں جھوٹ بولنا اور لغو کام کرنا نہ چھوڑا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جو شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کچھ پرواہ نہیں کہ وہ (روزہ کا نام کر کے) اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔”

صحیح بخاری

یتیموں کو خیرات دینا بہت ثواب کا کام ہے۔

سیدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میں اپنے بعد جن باتوں کا خوف تمہارے لیے کرتا ہوں ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ تم پر دنیا کی تازگی اور اس کی آرائش کھول دی جائے گی۔” تو ایک شخص نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! (مال کی زیادتی سے کیا خرابی ہو گی؟ مال تو اتنی اچھی چیز ہے) کیا اچھی چیز بھی برائی پیدا کرے گی؟ (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو اس سے کہا گیا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرتا ہے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تجھ سے کلام نہیں فرماتے۔ پھر ہم کو یہ خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہے (اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت فرمایا ہے چنانچہ جب وحی اتر چکی تو) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھا اور فرمایا: “ سائل کہاں ہے؟” گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (کے سوال) کو پسند فرمایا: “ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہاں یہ صحیح ہے کہ) اچھی چیز پر برائی نہیں پیدا کرتی مگر (بے موقع استعمال سے برائی پیدا ہوتی ہے) دیکھو فصل ربیع کے ساتھ ایسی گھاس بھی پیدا ہوتی ہے جو (اپنے چرنے والے جانور کو) کو مار ڈالتی ہے یا بیمار کر دیتی ہے۔ مگر اس سبزی کو چرنے والوں میں سے جو چر لے یہاں تک کہ جب اس کے دونوں کوکھیں بھر جائیں تو وہ آفتاب کے سامنے ہو جائے پھر لید کرے اور پیشاب کرے اور (اس کے بعد پھر) چرے (ایک دم بے انتہا نہ چرتا چلا جائے تو وہ نہیں مرتا) اور بیشک یہ مال ایک خوشگوار سبزہ زار ہے پس کیا اچھا مال ہے مسلمان کا کہ وہ اس میں سے مسکین کو اور یتیم کو اور مسافر کو دے۔ یا اسی قسم کی کوئی اور بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: “ اور بیشک جو شخص اس مال کو ناحق لے گا وہ اس شخص کے مثل ہو گا جو کھائے اور سیر نہ ہو اور وہ مال اس پر قیامت کے دن اس کے خلاف گواہی دے گا۔”

صحیح بخاری

کیا جب کسی روزہ دار کو گالی دی جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کے تمام اعمال اسی کے لیے ہوتے ہیں سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔” اور (حدیث کے) آخر میں ارشاد فرمایا: “ روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ایک اس وقت جب وہ افطار کرتا ہے (تو دلی) خوشی محسوس کرتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کرے گا تو روزے کا ثواب دیکھ کر خوش ہو گا۔”

صحیح بخاری

عیدالفطر کے دن (نماز کے لیے) نکلنے سے پہلے کچھ کھا لینا چاہیے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے روز دن چڑھنے دیتے تھے یہاں تک کہ چند کھجوریں کھا لیتے (یعنی نمازعید سے پہلے)۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق کھجوریں کھاتے تھے۔

صحیح بخاری

زکوٰۃ کا واجب ہونا شریعت سے ثابت ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو قاضی بنا کر یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: “ اے معاذ! تم وہاں کے لوگوں کو اس امر کے اقرار پر رغبت دلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں پس اگر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ہر رات اور دن میں پانچ نمازیں ان پر فرض کی ہیں پھر اگر وہ اس بات کو بھی مان لیں تو انہیں بتا دینا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقیروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔”

صحیح بخاری

چور پر لعنت کرنے کے بیان میں۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اللہ تعالیٰ چور پر لعنت کرے (کم بخت) انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور رسی چراتا ہے تو بھی اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔

صحیح بخاری

مردوں کا مسجد میں سونا (درست ہے)۔
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا کے گھر آئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہ پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟” وہ بولیں کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ (تنازعہ) ہو گیا تو وہ مجھ پر غضبناک ہو کر چلے گئے اور میرے ہاں نہیں سوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: “ دیکھو وہ کہاں ہیں؟ وہ (دیکھ کر) آیا اور اس نے کہا کہ وہ مسجد میں سو رہے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف لے گئے اور وہ لیٹے ہوئے تھے، ان کی چادر ان کے پہلو سے گر گئی تھی اور ان کے (جسم پر) مٹی لگ گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان (کے جسم) سے مٹی جھاڑتے اور یہ فرماتے تھے: “ اے ابوتراب! اٹھو۔ اے ابوتراب! اٹھو۔

صحیح بخاری

فتنوں کا ظاہر ہونا۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے: “ بدترین خلقت وہ لوگ ہیں جو اس وقت زندہ ہوں گے کہ جب قیامت آ جائے گی۔”

صحیح بخاری

عبادت میں میانہ روی اور اس پر ہمیشگی کرنا۔

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل پسند ہے؟ فرمایا: “ ایسا عمل جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔”

صحیح بخاری

اللہ تعالیٰ سے امید اور ڈر، دونوں رکھنا۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، فرماتے تھے: “ اللہ تعالیٰ نے جس وقت رحمت کو پیدا کیا تو اس کے سو حصے پیدا فرمائے، ننانوے حصے اپنے پاس رکھے اور ایک حصہ پوری مخلوق کی طرف بھیجا۔ پس اگر کافر لوگ اللہ کے پاس والی تمام رحمت کو جان لیں تو (باوجود اپنے کفر و شرک وغیرہ کے) کبھی بھی جنت سے ناامید نہ ہوں اور اگر مومن اللہ کے یہاں کے تمام عذاب کو جان لیں تو (باوجود اپنے عقیدہ، ایمان سے اور عمل صالح کے) دوزخ سے نڈر نہ ہوں۔

صحیح بخاری

آدمی جو مال اللہ کی راہ میں دے وہی اس کا مال ہے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تم میں ایسا کون ہے جسے اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے؟” سب نے عرض کی یا رسول اللہ! ہم سب کو اپنا ہی مال محبوب ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اپنا مال وہی ہے جو زندگی میں (فی سبیل اللہ) خرچ کر کے آگے بھیجا اور جو چھوڑ کر مر گیا وہ تو وارثوں کا ہے۔

صحیح بخاری

گناہوں سے باز رہنے کا بیان۔

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ میری مثال اور اس کی مثال جو اللہ نے میرے پاس بھیجا ہے اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی قوم سے آ کر کہا کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا کہ ایک لشکر دشمنوں کا آتا ہے اور میں تمہیں صاف صاف ڈراتا ہوں کہ تم اس سے بچو، اس سے بچو۔ ایک گروہ نے اس کی بات کو مانا اور رات ہی رات وہاں سے چل دیا وہ تو بچ گیا اور دوسرے گروہ نے اس کا کہنا نہ مانا، صبح کو وہ لشکر آپہنچا اور اس نے انھیں مار ڈالا۔

صحیح بخاری

خرید و فروخت میں نرمی اور آسانی کرنا بہتر ہے۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اللہ اس شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور فیاضی سے کام لے۔

صحیح بخاری

نیکی یا برائی کا ارادہ کرنا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے منجملہ دیگر روایت قدسیہ کے یہ بھی فرمایا: “ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور ظاہر کر دیا ہے کہ یہ نیکی ہے اور یہ برائی ہے، پس جس نے نیکی کا محض ارادہ کیا اور ابھی عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں پوری نیکی لکھے گا اور جس نے نیکی کا ارادہ کر کے عمل بھی کر لیا تو اس کے نامہ اعمال میں دس سے سات سو تک بلکہ اور دگنی تگنی جتنی چاہیے گا نیکیاں لکھے گا اور جس نے برائی کا ارادہ کیا لیکن (اللہ تعالیٰ سے ڈر کر) مرتکب نہیں ہوا اس کے لیے بھی ایک پوری نیکی کا ثواب لکھے گا اور جس نے ارادہ کر کے برائی کر بھی لی تو اس کے لیے ایک ہی گناہ لکھے گا۔”

صحیح بخاری

جنت اور دوزخ کے حالات۔

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ جب جنتی جنت میں چلے جائیں اور دوزخی دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جنت اور دوزخ کے درمیان میں لائی جائے گی پھر اس کو ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک منادی کرنے والا آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت! (تم کو آج کے بعد) موت نہ آئے گی اور اے اہل جہنم! (تم کو بھی آج کے بعد) موت نہیں آئے گی (اس آواز سے) اہل جنت کو خوشی پر خوشی ہو گی اور اہل دوزخ کو رنج پر رنج ہو گا۔

صحیح بخاری

Click to Read More